منگلورو 3مارچ ( ایس او نیوز)انتخابات کے دن قریب آنے کی وجہ سے اپنا مطالبہ منوانے کا بہتر موقع دیکھتے ہوئے کانگریس پارٹی سے وابستہ مسلم لیڈروں نے پارٹی کی قیادت کو متحدہ پیغام دیا ہے اور حکمراں پارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر دیناہے تومنگلورو مہانگر پالیکے کے میئر کا عہدہ مسلم کارپوریٹر کو دیا جائے ،ورنہ نائب میئر کا عہدہ دے کر دل بہلانے کی ضرورت نہیں ہے۔خیال رہے کہ کویتا سانیل کی میعادابھی ابھی ختم ہوئی ہے اور ان کی جگہ پرنئے میئر کا انتخاب ہونے والا ہے۔مسلم لیڈروں نے اس بات کے بھی اشارے دئے ہیں کہ اگر ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا تو پھر مجموعی طور پر تمام مسلم کانگریسی لیڈر اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔
جمعیت الفلاح کے ہال میں مسلم کانگریسی لیڈران اور کارکنان کی ایک میٹنگ جنوبی کینرا وقف مشاورتی بورڈ کے صدر حاجی کنچور مونواور ساحلی علاقے کے کانگریس اقلیتی سیل کے صدر یو بی سلیم کی قیادت میں منعقد ہوئی جس میں 200سے زائد افراد شریک تھے۔اس میٹنگ میں کانگریس کی طرف سے سینئر مسلم لیڈروں کو نظر انداز کیے جانے پر گفتگو ہوئی اور اس پر سخت بے اطمینانی کا اظہار کیا گیا۔اور اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کے لئے کسی بھی قسم کے احتجاج کے لئے تیار رہنے کی بات کہی گئی۔حاضرین کا کہنا تھا کہ کانگریس پارٹی کو مسلمانوں کی کتنی ضرورت ہے، اس بات کا احساس دلانے کے لئے احتجاج کاراستہ ہی اپنانا ضروری ہوگیا ہے۔اور کسی بھی قیمت پر اس سے قدم پیچھے نہیں ہٹانے چاہئیں۔
میٹنگ میں حاضر افراد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ صرف بینر باندھنے اور پوسٹرز چپکانے کے لئے نہیں ہیں۔ہم پارٹی کو تقویت پہنچانے کے لئے مشقت کرنے والے ہیں۔اس لئے ہمیں بھیک نہیں چاہیے۔ہمارا مقام اور مرتبہ طلب کرنا ہمار ا حق ہے۔اورہمیں یہ حق حاصل کرنا ہی ہوگا۔اور اس کے لئے احتجاج ہی ایک راستہ ہے۔ہمیں اپنا اتحاد کانگریس کے بڑے لیڈرو ں کے سامنے ثابت کرکے دکھانا ہوگا۔
میٹنگ میں شریک مسلم عوام کا کہنا ہے کہ اگر کارپوریشن علاقے کی آبادی کا تناسب دیکھیں تو کم ازکم 15مسلم کارپوریٹرز منتخب ہونے چاہئیں۔لیکن موجودہ کارپوریشن میں صرف 9مسلم کارپوریٹرز ہیں اور ان میں 6کانگریسی کارپوریٹرز ہیں۔ان میں دو دو اور تین تین مرتبہ منتخب ہونے والے کارپوریٹر بھی ہیں ۔لہٰذاان 6کانگریسی کارپوریٹرز میں سے کسی ایک کو ’میئر‘ کا عہدہ اس بار دینا ہی ہوگا۔اس سے پہلے چار میعادوں میں کرسچین، بنٹ،پسماندہ اور بیلّوا طبقے کو موقع دیا جاچکا ہے۔ اب ایک آخری میعاد باقی ہے ،او ر اس میں مسلمان کو لازمی طورپر یہ عہدہ دیا جانا چاہیے۔اگر مسلم کارپوریٹر کو یہ عہدہ اس بار نہیں دیا گیاتو پھر یہ روایت یونہی چلتی رہے گی،اور مستقبل میں ہماری آواز پر کوئی دھیان نہیں دے گا۔کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کی طرف سے اس سے پہلے کارپوریٹر کا انتخاب لڑنے کے لئے بھی ٹکٹ نہ دینے کے مواقع سامنے آئے ہیں۔
حاضرین کا احساس تھاکہ کانگریس میں موجود سینئر مسلم لیڈران اپنا منھ بند کیے بیٹھے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ناانصافی پر پارٹی کی اندرونی میٹنگوں میں بھی آواز نہیں اٹھاتے۔آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ زیادہ تر مسلم نوجوان کانگریس سے وابستہ ہیں اور مسلمانوں کے جذبات کا لحاظ کرنا پارٹی کے لئے لازمی ہوگا۔یہ بات ضلع انچارج وزیر کو سمجھ لینی ہوگی۔پارٹی کے سینئر لیڈروں کا یہ بہانہ چلنے والا نہیں ہے کہ میئر کا عہدہ مسلمان کو دینے سے بی جے پی الیکشن میں اس کا غلط فائدہ اٹھائے گی۔
میٹنگ میں یہ فیصلے گئے کہ میئر کے عہدے پر اپنا حق جتانے کے لئے مسلم قائدین کا ایک وفد راجیہ سبھا کے رکن آسکر فرنانڈیز ، ضلع انچارج وزیررماناتھ رائے ، ارکان اسمبلی محی الدین باوا، جے آر لوبو وغیرہ سے ملاقات کرے گا۔ اس کے علاوہ وزیر غذا یو ٹی قادر کی معرفت پارٹی پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔مطالبہ پورا نہ کرنے پر پارٹی کے عہدوں سے اجتماعی استعفیٰ دینے کے علاوہ میئر کے انتخاب سے پہلے منعقد ہونے والی کارپوریٹرز کی میٹنگ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔اس ضمن میں مزید پیش رفت کے لئے 5مارچ کواسی طرز کی ایک اور میٹنتگ منعقد کی جائے گی۔
اس میٹنگ میں جنوبی کینرا ضلع پنچایت اسٹانڈنگ کمیٹی کے سابق چیر مین شاہ الحمید، جنوبی کینرا کانگریس مائناریٹی مورچہ کے صدر این ایس کریم، کارپوریٹر عبدالرؤف، سابق میئر گلزار بانو، عبدالعزیز، سابق نائب میئر بشیر بائکمپاڈی، جنوبی کینرا یووا کانگریس نائب صدر لقمان بنٹوال، کانگریس پارٹی کے لیڈران سہیل کندک، الطاف، یو کے محی الدین مونو، عبدالستار اڈیار، ڈی ایم اسلم، شریف ، حسین کاٹی پلّا،عبدالجلیل بدریہ وغیرہ موجود تھے۔